بنگلورو7؍جولائی(ایس او نیوز)ریاستی حکومت کی طرف سے ان سرکاری اور ایڈڈ اسکولوں کو جہاں طلبا کی تعداد کم ہے دیگر اسکولوں میں ضم کئے جانے کی اسٹوڈنٹ اسلامک آرگنائزیشن نے مخالفت کی اور کہاکہ فوری طور پر اس تجویز کو ترک کیا جائے۔
آج ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایس آئی یو کے عہدیداروں نے کہاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے حق تعلیم قانون کے تحت نجی اسکولوں میں مستحق بچوں کے داخلے یقینی بنانے کی بجائے سرکاری اسکولوں کو مضبوط کرنے کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے، لیکن حکومت اس کے برعکس کررہی ہے۔آر ٹی ای کے تحت داخلہ مشکل ہوتا جارہا ہے تو دوسری طرف سرکاری اسکولوں کا معیار تعلیم گھٹتا جارہاہے۔
انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے آر ٹی ای قانون کے تحت نجی اسکولوں میں مستحق بچوں کے داخلوں کی شرح 25 فیصد مقرر کی جانی چاہئے۔ اس کے علاوہ نجی اسکولوں پر رقم صرف کرکے پیسہ ضائع کرنے کی بجائے سرکاری اسکولوں کے انفرااسٹرکچر کو بہتر بناکر اگر یہاں معیار اساتذہ کی نگرانی میں تعلیم کا سلسلہ آگے بڑھایا جائے تو حالات سدھر سکتے ہیں۔
ریاستی حکومت کی طرف سے طلبا کی کم تعداد کی بنیاد پر 28847 سرکاری اور ایڈڈ اسکولوں کو ایک دوسرے میں ضم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ یہ درست نہیں۔ ریاستی حکومت کو چاہئے کہ موجودہ تمام اسکولوں کو بہتر بنائیں۔ تعلیمی بجٹ میں غیر معمولی کمی پر بھی اس اخباری کانفرنس میں اعتراض کیا گیا اور کہا گیا کہ تعلیم کے لئے ضوابط کے لئے 15 فیصد بجٹ طے ہونا چاہئے تھا، لیکن صرف گیارہ فیصد بجٹ دیا گیا ہے، وزیر اعلیٰ کو اس پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ اس موقع پر ایس آئی یو کے قائدین ڈاکٹر نوید، توصیف ، عاقل وغیرہ موجود تھے۔